23 نومبر 2014 - 10:58
آیت اللہ جنتی: ثقافتی کاموں کے ذریعے تکفیریوں کا مقابلہ کیا جائے

تہران کے موقت امام جمعہ نے کانفرنس کے حضار کرام کو مخاطب کر کے کہا: ہمیں تکفیریت کے خلاف ثقافتی کام بھی کرنا ہوں گے اور علمی کام بھی۔ صرف منطق اور دلیل کافی نہیں ہے اس لیے کہ ان کے سربراہان، عقل و منطق کو نہیں پہچانتے۔ منطقی بات ان کی کھوپڑیوں میں نہیں گھستی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گارڈین کونسل کے سیکرٹری جناب آیت اللہ جنتی نے ’’انتہاپسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: تکفیریت کا مسئلہ سوفیصد سیاسی مسئلہ ہے اور یہ(تکفیری) اسلام کے نام سے مسلمانوں پر کاری ضربت لگانا چاہتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی علماء کو چاہیے کہ اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کریں اس لیے کہ یہ(تکفیری) کسی پر رحم نہیں کھاتے لوگوں کی ناموس کو تاراج کرتے ہیں اور کسی بھی چیز کے لیے اہمیت کے قائل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا: جو اسلام، اسلامی جمہوریہ ایران میں قائم ہوا اور اپنی عمر کے پنتیس سال گزار چکا ہے یہ اسلام دنیا میں پیش کرنے کے قابل ہے۔ اسلامی بیداری پوری دنیا میں پھیل رہی ہے لیکن عالمی استکبار اور ڈکٹیٹر حکمران اس سے خطرہ محسوس کرتے ہیں اس لیے کہ اسلامی بیداری ان کی جان کے لیے خطرہ ہے۔
آیت اللہ جنتی نے زور دے کر کہا: ان کی یہ پوری کوشش ہے کہ اسلامی بیداری نتیجہ خیز ثابت نہ ہو اور وہ ممالک جو اسلامی بیداری کا مرکز ہیں ان سے دنیا کو دور کیاجائے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ تکفیریوں اور دھشتگردوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں اور ثقافتی کام انجام دیں۔
ایران کی گارڈین کونسل کے سیکریٹری نے کہا: اسلامی ممالک کے جوانوں کو دھوکہ دیا گیا ہے اور وہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ یہ کام وہ خدا کی خشنودی کے لیے انجام دے رہے ہیں ان کی یہ حرکت ایک جہادی حرکت ہے اور وہ لڑتے ہیں تاکہ قتل ہو جائیں اور خود کو شہید قرار دیں۔ یہ اس طریقے سے شہید ہونا چاہتے ہیں۔
تہران کے موقت امام جمعہ نے کانفرنس کے حضار کرام کو مخاطب کر کے کہا: ہمیں تکفیریت کے خلاف ثقافتی کام بھی کرنا ہوں گے اور علمی کام بھی۔ صرف منطق اور دلیل کافی نہیں ہے اس لیے کہ ان کے سربراہان، عقل و منطق کو نہیں پہچانتے۔ منطقی بات ان کی کھوپڑیوں میں نہیں گھستی۔ وہ کبھی بھی حاضر نہیں ہوتے علمائے اسلام سے مناظرہ کریں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں اس کانفرنس کے بانیان مخصوصا آیت اللہ مکارم شیرازی کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو خیر مقدم کہا اور اس بات پر تاکید کی کہ اس پیغام کو دنیا والوں تک پہنچائیں۔

.............

242